• سیلاب ذدگان کی مدد کا منصوبہ

     منصوبے کا آغاز Friday. 17 September 2010 میں کیاگیا۔

    جب ۲۰۱۰ میں پاکستان میں سیلاب آیا تو لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے۔ ہماری تنظیم نے اس کے باوجود کہ ہم ایک چھوٹی سی تنظیم ہیں، ہم نے کچھ ہی عرصے میں ۱۰ لاکھ روپے اکٹھا کر لیے اور مصیبت میں گرفتار انپے پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد کی۔ ہم دل کی گہرایئوں سے اپنے ناروے میں موجود مسلمان بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرنا جنہوں نے اس نیک مقصد میں ہمارا ساتھ دیا۔

  • کاروانِ ودھن شریف (تحصیل بھلوال سرگودھا)

     منصوبے کا آغاز Sunday. 08 February 2015 میں کیاگیا۔

    یونین کونسل حضورپور کے عین برابر دریا آباد گاؤں ودھن شریف کے لوگوں نے سیلاب کے بعد گندم کی بوائی کے موقع پر فورم سے رابطہ کیا کہ سیلاب کے نتیجے میں گاؤں کے لوگ اپنی زمینوں کو کاشت کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ چنانچہ بانیِ فورم کی ہدایت پر دوسرا قافلہ ودھن شریف کے کسانوں کی ۲۰۰ ایکڑ اراضی کیلیئے یوریا کھاد اور بیج لے کر ودھن شریف روانہ ہوا۔ رات کی تاریکی میں قافلے کا اہل علاقہ نے بھرپور استقبال کیا۔ سید ہارون بخاری اور قاری غلام یاسین صاحب نے کسانوں میں کھاد اور بیج تقسیم کیا۔ اس قافلے پر تقریباََ پانچ لاکھ روپے کے اخراجات آئے۔

  • لوچستان (ڈھاڈر، ضلع کھچی بولان) میں متاثرینِ سیلاب کیلیئے کمرہ جات کی تعمیر

     منصوبے کا آغاز Saturday. 01 September 2012 میں کیاگیا۔

    فورم کے تحت بلوچستان میں ضلع کھچی بولان کے علاقے ڈھاڈر میں متاثرینِ سیلاب کیلیئے کمرہ جات کی تعمیر کیلیئے بھی بھرپور امداد کی گئی اور ڈیڑھ لاکھ روپے نقد کی ابتدائی امداد سے کمرہ جات کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ مولانہ وزیر القادری نے اس سلسلے میں فورم کی نمائندگی فرمائی۔

  • کاروانِ حضور پور (سرگودھا)

     منصوبے کا آغاز Sunday. 08 February 2015 میں کیاگیا۔

    دریائے جہلم کے کنارے بھیرہ شریف کے قریب تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا میں سیلاب سے متاثرہ ایک علاقہ یونین کونسل حضورپور کا تھا، جس میں چھانٹ، چاہڑ، ودھن شریف، اچراں، ٹہی، گھاگا اور فتح گڑھ جیسے دیہات شامل تھے۔ ان دیہات کے متاثرینِ سیلاب کی امداد کیلیئے پہلا قافلہ سید محمد ہارون بخاری کی قیادت میں روانہ ہوا اور متاثرین میں راشن، مکانات کی تعمیر کیلیئے نقد رقوم اور سفید پوش طبقہ کی خفیہ امداد کیلیئے رقوم کی فراہمی شامل تھی۔ خاص بات یہ تھی کہ امداد کی روانگی سے پہلے انتہائی منظم اور سائنسی انداز میں سروے کیا گیا۔ متاثرین کی فہرستیں تیار کروائی گئیں اور پھر جا کر مستحقین میں ان کے دروازوں پر جا کر امداد تقسیم کی گئی۔